لکھنؤ،14؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اترپردیش کواسمبلی ہاؤس کے دونوں ایوانوں میں آج گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخاب کی ووٹوں کی گنتی میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے گڑبڑی کاالزام لگاتے ہوئے سماج وادی پارٹی سمیت اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ کیا۔قانون ساز کونسل میں صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن لیڈر احمد حسن،آنند بھدوریا اور دیگر ایس پی ارکان نے گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی میں ضلع انتظامیہ اور حکومت کی طرف گڑ بڑی کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ کیا۔سپا اور بسپا رکن حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیچ آ گئے۔چیئرمین نے ان کواپنی جگہ پر جانے کی درخواست کی ، مگر ہنگامہ کم نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ایوان کی کارروائی 20 منٹ کیلئے ملتوی کر دی۔بعد میں ملتوی کے وقت کو 20-20 اور منٹوں کیلئے اور اس کے بعد شام ایک بجے تک کے لیے بڑھا دیا گیا۔اپوزیشن لیڈر احمد حسن نے کہا کہ گورکھپور کے ضلع مجسٹریٹ راجیو روتیلا شروع سے ہی الیکشن میں گڑبڑیکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہائی کورٹ نے انہیں تین مہینے پہلے ہی ہٹانے کا حکم دیا تھا، مگر حکومت نے نہیں ہٹایا۔ایس پی کے ریاستی صدر اور ایم ایل سی رکن نریش اتم نے کہا کہ گورکھپور میں گڑبڑی کرانے کے لیے ہی صحافیوں کا داخلہ روک دیا گیا ہے اور سماج وادی پارٹی کے ووٹوں کی گنتی کے ایجنٹوں کو زبردستی باہر نکالا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی انتخابات کے نتائج متاثر کرنے کے لیے بڑی سازش رچ رہی ہے۔اسی لیے ووٹوں کی گنتی روک دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس پی صدر اکھلیش یادو سے بات چیت کرکے پارٹی اگلا قدم اٹھائے گی۔